طبع شدہ
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - چھپا ہوا، شائع شدہ۔ "رقم جمع کروانے کے لیے جو چلان فارم طبع شدہ ہیں وہ انگریزی میں ہیں۔" ( ١٩٨٨ء، اردو نامہ، لاہور، جون، ٣١ )
اشتقاق
عربی زبان میں مشتق اسم 'طبع' کے ساتھ فارسی مصدر 'شدن' سے صیغہ حالیہ تمام 'شدہ' لگانے سے مرکب 'طبع شدہ' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٩٨٨ء کو "اردو نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چھپا ہوا، شائع شدہ۔ "رقم جمع کروانے کے لیے جو چلان فارم طبع شدہ ہیں وہ انگریزی میں ہیں۔" ( ١٩٨٨ء، اردو نامہ، لاہور، جون، ٣١ )